در بدر

/
sold in last hours
Rs.1,500.00

Delivery:
Estimated delivery time: 3-5 working days
Returns:
Within 7 days of purchase
Visa Mastercard American Express PayPal Diners Club Discover

دسمبر کی سرد، خاموش اور پُر اسرار راتوں میں جب شہر کی فضا میں دھند کے ہلکے پردے تھے، ایک نوجوان نے ٹوٹتی ہوئی سانسوں اور لرزتی ہوئی آہوں کے بیچ ماضی کی ایک آواز سنی:
“تم کسی اور کے مت ہونا… ورنہ میں جیتے جی مر جاؤں گی، بکھر جاؤں گی… اور نہ جانے کیا کیا کچھ ہو جائے گا۔”

مگر پھر زندگی نے وہ منظر دکھایا جسے سمجھنے میں زمانے لگ جاتے ہیں۔ وہی آواز، وہی وجود جس نے فنا تک کا وعدہ کیا تھا، پل بھر میں بدل گیا—یوں جیسے اپنی ہی باتوں کو ہوا کے ایک ہلکے جھونکے پر رکھ کر کسی اور کے آنگن میں اڑتا ہوا چلا گیا۔
اور جو پیچھے رہ گیا، وہ حیرت کا ایک مجسمہ… جو ساری کائنات کو خفگی اور تعجب سے تک رہا تھا کہ آخر محب کیسے بدل گیامحبوب کا تو کبھی کبھی حق ہوتا ہے بے اعتنائی کا، مگر محب…؟ وہ جو دعوے کرتا ہے، وعدے باندھتا ہے، جس کے کلام میں وفا کی گونج ہوتی ہے—وہ کیسے پل بھر میں راستے بدل لیتا ہے اور دربدر ہو جاتا ہے؟

یہ وہ لمحہ تھا، ایک بہت چھوٹا سا واقع، مگر ایک پورے ناول کی بنیاد بننے والا محرک۔ جیسا کہ فرید آذرؔ نے کتاب کے آغاز میں اظہار خیال کے پہلے صفحہ پر خود یہ اعتراف کیا ہے کہ دربدر کی ابتدا ایک افسانے کی صورت میں ہوئی تھی۔ ارادہ تو صرف چند صفحات میں دل کا ملال اتارنے کا تھا، مگر کردار اتنے جاندار، اتنے بے چین اور اتنے توانا ثابت ہوئے کہ خود قلم کو راستہ بتانے لگے۔

زخموں پر مرہم رکھتے رکھتے وہی زخم تخلیق کی حرارت بن گئے، اور افسانہ اپنا جسم توڑ کر ناول کی وسعتوں میں داخل ہو گیا۔ یوں دربدر رفتہ رفتہ ایک ذاتی تجربے سے نکل کر ایک اجتماعی آئینہ بن گیا۔

فرید آذرؔ کی زندگی کا سفر بھی کم دربدر نہیں—قصور کی مٹی سے اٹھ کر فکر، علم اور تجربے کے راستوں پر چلتے ہوئے انہوں نے انسان، معاشرہ، محبت، نفسیات اور تقدیر کے پیچیدہ پہلوؤں کو نہ صرف محسوس کیا بلکہ ان کی تہہ تک اتر کر اظہار کا حوصلہ بھی پیدا کیا۔ ان کا قلم جذبات کے دریا سے نکلتا ضرور ہے مگر اس پر عقل، شعور اور فکری ٹھہراؤ کی مهر نمایاں ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دربدر صرف جذباتی وارداتوں کا ذخیرہ نہیں بلکہ ایک مکمل فکری بحث بھی ہے۔

یہ ناول محض ایک رومانوی یا روایتی بیانیہ نہیں۔ یہ موجودہ نسل کی آزادروی، بے سمتی، اضطراب اور دربدری کا نہایت باریک بینی سے مطالعہ پیش کرتا ہے۔ اس میں محبت و حوس کی کشمکش ہے؛ نفس اور ایمان کی جنگ ہے؛ عقل اور جبلت کی رسّا کشی ہے؛ تقدیر کے عجیب کھیل اور بے شمار راستوں میں بھٹکتا انسان ہے۔ کردار کہیں اجنبی نہیں لگتے—وہ ہمارے اردگرد کے لوگ ہیں: ہماری گلیوں میں چلتے ہوئے، ہمارے گھروں میں سانس لیتے ہوئے، ہمارے معاشرے کا حصہ۔

آذرؔ نے فرد کی دربدری سے آغاز کر کے قوموں کی دربدری تک دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں، مکالمہ بُن دیتے ہیں، خاموشیوں کو معنی دے دیتے ہیں۔ پڑھنے والا کہیں بھی بوجھ محسوس نہیں کرتا، بلکہ ہر صفحہ اسے اگلے صفحے کی طرف دھکیلتا ہے۔ تجسس، حیرت اور دکھ کی ایک لڑی ناول کو آخر تک باندھے رکھتی ہے، اور قاری جب اسے مکمل کر لیتا ہے تو محسوس کرتا ہے کہ شاید یہ صرف کسی ایک انسان کی کہانی نہیں تھی… بلکہ ہر اس دل کی کہانی تھی جو زندگی کے کسی موڑ پر دربدر ہوا ہے۔

دربدر ادبی وقار، فکری گہرائی اور بیانیہ قوت کا ایک منفرد امتزاج ہے—ایک ایسا ناول جو ذاتی تجربے سے اٹھ کر اجتماعی شعور تک پہنچتا ہے۔ فرید آذرؔ نے نہ صرف ایک داستان لکھی ہے بلکہ ایک پورا منظرنامہ تراشا ہے، جس میں انسان بھی ہے، اس کی کمزوریاں بھی، اس کی بھٹکنے کی کہانیاں بھی، اور نجات کی جستجو بھی۔۔ ہمیں یقین ہے کہ دربدر نہ صرف دلوں کو چھوئے گا بلکہ ذہنوں میں بھی نئے دریچے کھولے گا۔